مولانا فضل الرحمن کا وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے، قوم نے عمران خان کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے: چودھری پرویزالٰہی

سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے اداروں کو متنازع بنانا قومی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے، لڑائی میں فوج کو گھسیٹ کو جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں اور نہ آئین اس کی اجازت دیتا ہے

مولانا فضل الرحمن کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ حکومت کی مصالحتی پالیسی کی وجہ سے ان کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوا، معاہدے کی پاسداری لازم ہے: میڈیا سے گفتگو

لاہور(02نومبر2019) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے اداروں کو متنازع بنانا قومی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے، مولانا فضل الرحمن لڑائی میں فوج کو گھسیٹ کر جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کر رہے، اب جبکہ فوج کی طرف سے بھی وضاحت آ چکی ہے بہتر یہ ہو گا کہ مولانا فضل الرحمن اپنے بیان سے رجوع فرما لیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ حکومت کی مصالحتی پالیسی کی وجہ سے ہی ان کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہواہے اگر مصالحتی کمیٹی درمیان میں نہ ہوتی تو مولانا کے لوگوں کو اسلام آباد میں آنے ہی نہیں دیا جانا تھا، مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ دو روز بعد وہ اپنے لوگوں کو قابو میں نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ اپنے لوگوں کو قابو میں رکھنا انہی کی ذمہ داری ہے، معاہدے کی پاسداری لازم ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ غیر آئینی بھی ہے اور غیرجمہوری بھی، عمران خان کو قوم نے پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا اسی طرح حق ہے جس طرح مولانا صاحب کے دائیں بائیں کھڑی ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پوری کی ہیں ان سے مولانا صاحب نے کبھی اس طرح کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو چاہئے کہ جس سپرٹ کے ساتھ انہوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے انتخابی مینڈیٹ کا احترام کیا تھا اب اسی سپرٹ کے ساتھ عمران خان کے مینڈیٹ کا بھی احترام کریں۔

Ch Parvez Elahi

مولانا فضل الرحمن کا وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے، قوم نے عمران خان کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے: چودھری پرویزالٰہی

Gepostet von Chaudhry Parvez Elahi am Samstag, 2. November 2019

Share