جج بھول گیا زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جج نے مشرف کے مرنے کے بعد کی بھی سزا سنا دی: چودھری شجاعت حسین

اگر کسی جج کے خلاف ایسا فیصلہ آیا تو کون اس پر عملدرآمد کرے گا یہ قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے

اس فیصلے سے فوج کا مورال ڈاؤن ہوا اور عوام کو سخت تکلیف ہوئی، اس فیصلے سے دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی: چودھری شجاعت حسین کا مشرف کے فیصلے پر اظہار خیال

اسلام آباد/لاہور(20دسمبر2019) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسا ظالمانہ فیصلہ مار شل لاء کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا جیسا موجودہ دور میں ہوا ہے، ایک جج یہ بھول گیا کہ زندگی اور موت سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مرنے کے بعد کیا ہوگا اس کا فیصلہ بھی جج صاحب نے کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جج کے خلاف ایسا کوئی فیصلہ آجائے تو کیا تب ان کیلئے بھی ایسے ہی حکم پر عملدرآمد کیا جائے گا، فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ آئندہ مارشل لاء نہ لگے لیکن اس فیصلے کے الفاظ کے بعد ملک میں موجودہ صورتحال سے نمٹنے والی فوج کا مورال کس قدر ڈاؤن ہوا ہے ملک میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے پاکستان اور اس میں رہنے والے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک کی حفاظت کیلئے لاکھوں سپاہی اپنے سپہ سالار کے کہنے پر گولی کھانے اور چلانے کیلئے تیار ہوتے ہیں، جج کے اس فیصلہ سے فوجی جوانوں اور پوری قوم کو سخت تکلیف ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے قانون دان اور وکلاء قانونی پیچیدگیوں میں پڑ رہے ہیں مگر یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ جس فوجی افسر کیلئے لاکھوں سپاہی گولی کھا سکتے ہے اس کے سپہ سالار کو غدار کہا گیا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ پاکستان ایک اسلامی اور مہذب ملک ہے یہاں بسنے والے لوگ اسلامی اور معاشرتی طور پر باشعور لوگ ہیں، زیر نظر فیصلے نے ان سب کی منافی کی ہے۔

”We direct the law enforcement agencies to strive their level best to apprehend the fugitive/convict and to ensure that the punishment is inflicted as per law and if found dead, his corpse be dragged to the D-Chowk Islamabad, Pakistan and be hanged for 3 days.”

انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں ہائی ٹریژن کا معنی کیا ہے؟ جج نے کہا کہ مرنے کے بعد اس کی لاش کو گھسیٹا جائے کیا یہ مطلب ہے؟ آئین کے کسی پیراگراف میں ایسا لکھا ہو تو بتا دیں۔

 

Share