آرمی ایکٹ کی منظوری فرد واحد نہیں پاکستان کا مسئلہ تھا، تمام سیاسی جماعتوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیا: چودھری شجاعت حسین

ملکی مفاد پر آپس کی رنجش بھلا کر سب جماعتیں متحد ہیں، بلوچستان کے عوام محب وطن اور میرے دل کے بہت قریب ہیں: میر عبدالقدوس بزنجو کی ملاقات

ملاقات میں سینیٹر سعید الحسن مندوخیل، چودھری شافع حسین، چودھری شہزاد اور سلمان کرد بھی موجود تھے

لاہور(08جنوری2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ کی منظوری فرد واحد کا نہیں پاکستان کا مسئلہ تھا جس کی منظوری پر حکومت اور اپوزیشن مبارکباد کی مستحق ہیں، سیاسی جماعتوں نے کثرت رائے سے ایکٹ پاس کروا کر سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے، ملکی مفاد پر آپس کی رنجش بھلا کر سب جماعتیں متحد ہیں۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر قائم مقام گورنر و سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ ملاقات میں سینیٹر سعید الحسن مندوخیل، چودھری شافع حسین، چودھری شہزاد اور سلمان کرد بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور وہ میرے دل کے بہت قریب ہیں۔ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ آرمی ایکٹ پر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت تھی جس پر حکومتی اتحاد اور اپوزیشن دونوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے چودھری شجاعت حسین کی سوچ اور ویژن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلوچستان کے لوگ چودھری برادران کے گھر کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر چودھری شجاعت حسین نے میر عبدالقدوس بزنجو سے ان کے والد میر عبدالمجید بزنجو کی وفات پر تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے والد سے ہمارے خاندانی تعلقات تھے، ان کی وفات پر میں خود کوئٹہ آنا چاہتا تھا لیکن طبیعت خرابی کے باعث نہیں آ سکا تھا۔

Share