قرآن پاک کی حرمت کے پیش نظر اسے سیاسی معاملات میں نہ لایا جائے: چودھری شجاعت حسین

قومی اسمبلی میں قرآن کریم کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے کل کو بجٹ دستاویزات کی طرح اس مقدس کتاب کی بھی بے حرمتی نہ کر دی جائے

لاہور(14جنوری2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قرآن کریم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس مقدس ترین کتاب کو سیاسی معاملات کے بیچ میں نہ لایا جائے اور سپیکر قومی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ کسی بھی حوالے سے یا کسی بھی طور پر قرآن پاک کے تقدس اور حرمت پر حرف نہ آئے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ قومی اسمبلی میں قرآن مجید کو جس طرح موضوع بحث بنایا جا رہا ہے اور قرآنی آیات کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے وہ مناسب نہیں ہے کیونکہ کل کو یہ نہ ہو کہ جیسے بجٹ اجلاس کے موقع پر بجٹ دستاویزات کو پھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اس طرح کہیں قرآن کریم کی بے حرمتی بھی نہ کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کسی بھی جانب سے قرآن مجید کو سیاسی معاملات کے بیچ میں نہ لایا جائے تاکہ اس مقدس ترین کتاب کی حرمت برقرار رہے، سپیکر قومی اسمبلی کو اس سلسلہ میں سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔

Share