خیر خواہوں کی دعاؤں کا شکریہ، عمران خان نیک نیت ہیں سب صرف ملک و قوم کی خاطر سوچیں: چودھری شجاعت حسین

بیماری کے دوران لوگوں کی بے پناہ محبت کا اندزہ ہوا، اللہ کے فضل اور لوگوں کی دعاؤں سے صحت یاب ہوا: میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد/لاہور(19فروری2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ میں نے عمرہ کے دوران پر مقامِ ابراہیم کے سامنے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے گھر دوبارہ آنے کا موقع دیا، وہ تین ماہ تک جرمنی میں زیر علاج رہے اور ایک ماہ آئی سی یو میں رہے لوگوں نے ان کی بیماری کے متعلق بہت سی افواہیں پھیلائیں، لوگ بڑی تعداد میں دور دراز علاقوں سے ان سے ملنے آتے تھے، 80فیصد لوگوں کومجھ سے ملنے کی اجازت بھی نہیں تھی اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں وہ جانتے تک نہیں تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ ملک کے باہر مجھے احساس ہوا کہ لوگ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور ان لوگوں کی دعاؤں سے مجھے مشکل وقت سے نکالا اور صحت یاب کیا، میں نے حرم پاک میں پاکستان کی سالمیت اور ان لوگوں کیلئے دعا کی جنہوں نے ان سے دعا کا کہا تھا، اللہ تعالیٰ ان کی نیک خواہشات کو پورا کرے، میں نے حرم پاک میں عمران خان کیلئے بھی دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمرہ روانگی سے قبل بھی ایک سوال پر کہا تھا کہ میں عمران خان کیلئے دعا کروں گا اور واپس آ کر انہیں مشورہ بھی دوں گا۔ انہوں نے ایک کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عمران خان کی نیک نیتی کی وجہ سے آج انہیں اس منصب تک پہنچایا ہے لیکن وہ سیاسی ہیرا پھیری نہیں سیکھے، بعض لوگ کسی کے صحیح اور نیک مشورے کو بھی مخالفت کے زمرے میں پیش کر دیتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہاکہ جہاں تک عمران خان کو مشورہ دینے کی بات ہے تو میں انہیں ذاتی طور پر مشورہ دینا چاہوں گا کہ اگر آپ تین باتوں پر عمل پیرا ہوں تو اللہ تعالیٰ آپ کیلئے مزید آسانیاں پیدا کرے گا۔ انہوں نے عمران خان کومشورہ دیا کہ وہ چاپلوسوں اورچغل خوروں سے دور رہیں اور اپنے اردگرد منافقین کی نشاندہی کریں اور انہیں اپنے نزدیک نہ آنے دیں، مزید یہ کہ اپنے اندر میں یعنی خودپسندی نہ آنے دیں۔ انہوں نے ماضی میں بھی نوازشریف کو یہی مشورہ دیا تھا جبکہ نوازشریف نے اس کے برعکس کیا، اتفاق کی بات یہ ہے کہ اُس وقت نوازشریف کی چاپلوسی کرنے والے آج بھی اقتدار میں شامل ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک اور سوال پر کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف کو بھی مشورہ دیا تھا کہ طالبان کا لفظ مدرسے کے طالبعلم سے جوڑ کر استعمال نہ کریں، ایسے بیان دینے سے مدرسے کا ہر طالبعلم آپ کو اپنا دشمن سمجھے گا، چھ ما ہ تک انہوں نے میری بات مان کر طالبان کی جگہ ایکسٹریمسٹ کا لفظ استعمال کیا بعد میں پھر طالبان کہنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نیک نیتی کے ساتھ سب کو مشورہ دیتا ہوں کسی نے مان لیا کسی نے نہیں یہ اس کی مرضی، سب اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر صرف اور صرف ملک و قوم کی خاطر سوچیں گے تو کامیاب رہیں گے۔

Share