محکمہ صحت کی بریفنگ کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ٹیم کا شکریہ، کاوشوں پر مبارکباد پیش کرتا ہوں: چودھری پرویزالٰہی

تمام معزز ارکان اسمبلی سے پری بجٹ تجاویز طلب، اگلے ہفتے آل پارٹیز پارلیمانی اجلاس طلب کرنے کا پروگرام

سپیکر پنجاب اسمبلی کی زیرصدارت کورونا پر آل پارٹی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا ویڈیو لنک اجلاس، وزیر قانون محمد بشارت راجہ، وزیر صحت یاسمین راشد، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی سمیت پارلیمانی رہنماؤں کی شرکت

لاہور(16اپریل2020) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیرصدارت کورونا پر آل پارٹی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ویڈیو لنک پر منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، سیکرٹری ہیلتھ کیپٹن (ر) عثمان اور نبیل اعوان نے کورونا کے حوالے سے اقدامات پر بریف کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے ارکان نذیر احمد چوہان، ساجد احمد خان، سید حسن مرتضیٰ، سردار اویس احمد خان لغاری، سمیع اللہ خان، خواجہ سلمان رفیق، امین ذوالقرنین، ملک احمد علی اولکھ اور محمد معاویہ نے شرکت کی اور اپنی تجاویز سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک بھی موجود تھے۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے رول 133-اے کے تحت پری بجٹ اجلاس جاری تھا جسے کورونا کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا، اس حوالے سے ارکان اسمبلی کی تجاویز بڑی اہمیت کی حامل ہیں لہٰذا میں اس فورم سے چاہوں گا کہ معزز ارکان اسمبلی اپنی تجاویز اسمبلی سیکرٹریٹ کو بھجوا دیں تاکہ انہیں محکمہ خزانہ کو بھجوایا جا سکے، انشاء اللہ اس کمیٹی کا اجلاس پری بجٹ کے حوالے سے بھی اگلے ہفتے بلانے کا پروگرام ہے جس میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کو بھی شامل کر کے ان سے بھی بریفنگ لی جائے گی۔ انہوں نے پنجاب میں کورونا وائرس سے بچاؤ اور تدارک کے اقدامات پر ڈاکٹر یاسمین راشد، کیپٹن عثمان اور نبیل اعوان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ٹیسٹنگ معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، گجرات کے تین لوگوں کے ٹیسٹ سرکاری لیبارٹری میں ہوئے جو کہ مثبت آئے، انہی لوگوں کے ٹیسٹ جب پرائیویٹ لیبارٹری سے کروائے تو وہ منفی تھے، ان لیبارٹریوں کے یا تو آلات ٹھیک نہیں یا کوئی اور وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے لہٰذا ان کے معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ گندم کی کٹائی کا موسم آ گیا ہے، اب بار دانہ تقسیم ہو گا تو ان جگہوں پر رش ہونے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے لہٰذا ہیلتھ اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ مل کر کورونا سے بچاؤ کیلئے خصوصی انتظامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا مریضوں کے ساتھ بدتمیزی والا رویہ نہ اختیار کیا جائے انہیں عزت و احترام کے ساتھ ڈیل کیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعلیٰ افسروں نے شرکا کو پنجاب میں کورونا کے حوالے سے بریف کیا اور انتظامات میں حکومت کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی اس کاوش کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یقینا اس کانفرنس کے بعد انتظامات کے حوالے سے بہتری آئے گی۔ خواجہ سلمان رفیق نے جیل میں کورونا کے حوالے سے انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا، جیل کے عملے کو مکمل حفاظتی کٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور چھوٹے دکانداروں کے بل معاف کرنے کا کہا۔ اویس لغاری نے کہا کہ این 95 ماسک فراہم نہیں کیے جا رہے، لاک ڈاؤن کے حوالے سے بھی واضح طور پر آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ سمیع اللہ خان نے کہا کہ ن لیگ کے صدر میاں شہبازشریف نے کورونا کے حوالے سے مثبت تجاویز تیار کی ہیں جس پر سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ آپ وہ تجاویز اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائیں انہیں پنجاب حکومت تک پہنچا دیا جائے گا۔ سید حسن مرتضیٰ نے اپنے ضلع چنیوٹ میں صحت مراکز پر ٹیسٹنگ سہولتوں کے فقدان کا ذکر کیا۔ محمد معاویہ نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لوگ قرنطینہ سنٹر سے بھاگ گئے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کے شناختی کارڈ پر درج پتہ غلط تھا۔ ساجد احمد خان، نذیر احمد چوہان اور امین ذوالقرنین نے کہا کہ ایسا سسٹم ہونا چاہئے کہ عوام کے پاس جا کر ان کے ٹیسٹ کیے جائیں، فوج کی طرح کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں اور سٹاف کو نشان حیدر یا گولڈ میڈل دیا جائے۔ احمد علی اولکھ نے کہا کہ باہر ممالک سے آئے لوگوں میں سے ہزاروں لوگ ابھی بھی ٹریس نہیں ہو سکے ان کا پتہ لگایا جائے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے تمام ارکان کی تجاویز اور شکایات سننے کے بعد متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ ان پر عملدآرمد کر کے اگلے اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کو بریف کیا جائے۔

Share