قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل نہ کیا جائے یہ غیر آئینی ہے: پاکستان مسلم لیگ

اتنے حساس معاملہ میں بطور اتحادی جماعت ہم سے کوئی مشورہ نہیں ہوا، قادیانی خود کو اقلیت مانتے ہیں نہ آئین پاکستان کو

نیا پینڈورا باکس نہ کھولا جائے: چودھری شجاعت حسین، سپیکر پرویزالٰہی، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر کا بیان

لاہور(29اپریل2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین، سپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی، سیکرٹری جنرل وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ اور صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے زور دیا ہے کہ نیشنل کمیشن فار مینارٹیز میں قادیانیوں کو شامل نہ کیا جائے کیونکہ یہ غیر آئینی اقدام ہوگا، اس ایشو پر ہم سے بطور اتحادی جماعت کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ ان رہنماؤں نے قادیانیوں کو قومی کمیشن برائے اقلیت میں شامل کرنے کی کوششوں پر گہری تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں قادیانیت کا پینڈورا باکس کھولنا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی آئین پاکستان کو مانتے ہیں ایسے میں ان کی حکومت کی طرف سے پذیرائی آئین پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہے جو کسی طور پر قابل قبول نہیں، اس قسم کی کسی بھی تجویز سے پہلے وسیع تر مشاورت کی ضرورت تھی لیکن حکومت نے اپوزیشن یا علماء تو کجا اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہاعجلت میں اور باالخصوص موجودہ حالات میں اس حساس ایشو کو زیربحث لانا بہت سے سوالات پیدا کر رہا ہے۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت آئین کے منافی ایسی کسی تجویز سے مکمل براء ت اور لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

Share