چیئرمین نیب 20 سال پرانے کیس کی دوبارہ سماعت کا حکم نہیں دے سکتے: کامل علی آغا

چودھری صاحبان کی درخواست پر چیئر مین نیب و دیگر فریقین سے 11 مئی کو جواب طلب

چودھری صاحبان کے وکیل امجد پرویز کا جسٹس فاروق حیدر کے کیس سننے پر اعتراض، جسٹس فاروق حیدر ماضی میں ایک عرصہ تک چودھری برادران کے وکیل رہ چکے ہیں

لاہور(07مئی2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے چیئرمین نیب کے 20 سال بعد نامعلوم درخواست پر کارروائی عمل میں لانے کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیاہے۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی کیس کی سماعت پر خود پیش ہوئے۔ چودھری صاحبان کے وکیل امجد پرویز نے اعتراض اٹھایا کہ جسٹس فاروق حیدر ایک عرصہ تک چودھری صاحبان کے وکیل رہ چکے ہیں اس لیے اخلاقاً ان کو کیس نہیں سننا چاہئے جس پر جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ اس کا فیصلہ بھی پیر کے روز سماعت کے موقع پر کریں گے۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ نے درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے چیئر مین نیب و دیگر فریقین کو 11 مئی بروز پیر جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ بعض ازاں سینیٹر کامل علی آغا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب بار بار نامعلوم درخواست پر قائم کیا جانے والا کیس اٹھا لاتی ہے حالانکہ اس کیس کے حوالے سے تفتیشی افسران اپنے ادارے کو لکھ چکے ہیں کہ اس کیس کو بند کیا جائے کیونکہ اس میں کچھ نہیں ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ نا معلوم درخواست پر کارروائی کرنے کی وجوہات کیا ہیں، کون ہے جو اس درخواست پر کارروائی کر وا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ نیب کا ادارہ سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال ہو رہاہے، 2002ء میں بھی جب ہم حکومت میں تھے تو ہمارے خلاف تب بھی کارروائی جاری تھی، ہم عدالت سے جاننا چاہتے ہیں کہ یہ نامعلوم درخواست دینے والے کا اتا پتا کیا ہے اب سب کچھ کھل کر سامنے آ جا ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2000ء میں چودھری برادران کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے، اب بہت ہو گیا اب ہم انصاف لینے عدالت پہنچے ہیں، ہمیں عدالت سے پوری توقع ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور نا معلوم درخواستوں پر کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ چیئرمین نیب 20 سال پرانے کیس کی دوبارہ سماعت کاحکم نہیں دے سکتے لہٰذا عدالت چیئرمین نیب کے فیصلے کو کاالعدم قراردے۔

Share