خاتم النبیین حضرت محمدﷺ، امہات المومنین، خلفائے راشدین، اہل بیت اور صحابہ کیخلاف شر کا دروازہ بند کر دیا: چودھری پرویزالٰہی

پنجاب اسمبلی میں تاریخی قانون سازی، مشترکہ طور پر منظور کردہ قانون بل کے تحت پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ تمام دینی کتب اور مواد کی متحدہ علماء بورڈ سے تصدیق کروائے گا

نصابی کتب میں اسلام اور مقدس شخصیات کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی تھی: سپیکر، ختم نبوتﷺ کی حفاظت پر پورا ایوان مبارکباد کا مستحق ہے: رانا مشہود

لاہور(09جون2020) پنجاب اسمبلی نے تاریخی قانون سازی کرتے ہوئے پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ترمیمی بل کی مشترکہ طور پر منظوری دیدی۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ بل کی منظوری سے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ، امہات المومنین، خلفائے راشدین، اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف شر کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن رکن رانا مشہود نے کہا کہ ختم نبوتﷺ کی حفاظت پر پورا ایوان مبارکباد کا مستحق ہے، یہ بل سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی کوششوں سے پیش اور منظور کیا گیا۔ بل پاکستان مسلم لیگ کی رکن خدیجہ عمر نے پیش کیا جس کے تحت پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام دینی کتب اور مذہبی مواد پہلے متحدہ علماء بورڈ سے تصدیق کرائے گا۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے بل کی منظوری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز جو دین اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں اس کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں، باالخصوص سکول میں ہمارے بچوں اور بچیوں کو جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان کے ذہن میں دین اسلام، خلفائے راشدین، اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف نفرت انگیزی اور شکوک و شہبات پیدا کئے جاتے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ انشاء اللہ اس شر کے دروازے کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیں، اس لئے ہم یہ اہم قانون سازی لے کر آرہے ہیں تاکہ ہماری آئندہ نسل محفوظ رہے جو ہمارا مستقبل ہے۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ انشاء اللہ اس قانون کے تحت ہر قسم کی دینی کتب اور دینی مواد جو سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ پابند ہو گا کہ وہ پہلے متحدہ علماء بورڈ سے تصدیق کروائے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شر کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ترمیمی بل لائے ہیں، یہ ملک اسلام کے نام پر بناہے، ہم کسی صورت اسلام کی توہین نہیں ہونے دیں گے۔

____________________________________

پنجاب اسمبلی میں پروفیسر وارث میر کے حق میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

پروفیسر وارث میر نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کی، پنجاب اسمبلی کا ایوان وارث میر کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے، وارث میر کی شاندار خدمات پر انہیں ہلال امتیاز بعد از مرگ کا اعزاز عطا کیا گیا: قرارداد کا متن

لاہور(09جون2020) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی میں پروفیسر وارث میر سے متعلق قرار داد متفقہ طورپر منظور کر لی گئی۔ قرارداد ن لیگ کے رکن خلیل طاہر سندھو نے پیش کی۔ قرارداد کے متن کے کہا گیا ہے کہ پروفیسر وارث میر نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کی، پروفیسر وارث میر اپنے دور کے بڑے صحافی اور استاد رہے، پنجاب یونیورسٹی میں پچیس سال تک صحافت پڑھاتے رہے، وارث میر نے آمرانہ دور میں جدوجہد کی اور جرات مند تحریروں کے ذریعے کلمہ حق بلند کیا، پچیس سال تک ملک کے مختلف اخبارات میں بے باک کالم لکھے، گزٹ آف پاکستان برائے 2013 کے صفحہ 44 کے مطابق سچائی کیلئے لکھوں اور لوگوں کی آواز بن کر بولوں کے مصداق ایک مشن کے ساتھ پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ بنیادی انسانی حقوق کے داعی آزادی اظہار اور سوچ کے علمبردار ہونے کے ناطے وارث میر نے مشکل راہ کا انتخاب کیا، پابندیوں اور دھمکیوں ذہنی اذیت اور تشدد کے باوجود وارث میر ظالم قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے، وارث میر کی شاندار خدمات پر انہیں ہلال امتیاز بعد از مرگ کا اعزاز عطا کیا گیا، پنجاب اسمبلی کا ایوان وارث میر کی بیش قدر ملکی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہے، وارث میر نے اصولی موقف پر چلتے ہوئے جموریت اور آزادی کی جنگ لڑی، وارث میر کی تحریر کردہ کتابوں میں حریت فکر کے مجاہد، کیا عورت آدھی ہے، خوشامدی صحافت سیاست اور ضمیر کے اسیر شامل ہے، وارث میر نے اصولوں کی خاطر 48 سال کی عمر میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں وارث میر کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع کیمپس انڈر پاس کو دوبارہ پروفیسر وارث میر انڈر پاس کے نام سے منسوب کیا جائے۔

Share