تمام چینل مالکان کے ساتھ معاملات حل اور واجبات ادا کیے جائیں: چودھری شجاعت حسین کا وزیراعظم کو خط

میڈیا کے ساتھ قربت کی بجائے دوریاں پیدا کرانے والوں کا نہیں بلکہ آپ کا نقصان ہو رہا ہے، 24 نیوز کا لائسنس بحال کیا جائے

بطور وزیراعظم میں نے حکومت کیخلاف خبر پر تحمل اور ملکی مفاد کیخلاف کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، تمام مسائل کا حل آئین و قانون کی سربلندی ہے

لاہور(06جولائی2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بطور اتحادی اور خیر اندیش وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں کہا ہے کہ وزیر اطلاعات کو چینل مالکان کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے اور ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے میڈیا کے واجبات ادا کرنے کی ہدایت کریں کیونکہ میڈیا کے ساتھ دوری سے صرف ان کا نقصان ہو رہا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے چینل 24 کی بندش پر اپنے خط میں کہا کہ اتحادی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے میں آپ کو خط لکھ رہا ہوں، امید ہے کہ آپ اس کو تنقید کے پیرائے میں نہیں لیں گے، بلکہ حکومت کے سامنے جو بھی اصلاح کی بات کی جاتی ہے اسے تنقید میں نہیں لیا جاتا، حکومت اور میڈیا کے درمیان قربت کی بجائے ایسے فاصلے پیدا کروائے جاتے ہیں جس میں دوریاں پیدا کروانے والوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ نقصان صرف اور صرف آپ کا ہو رہا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور ریاست کے استحکام کیلئے اس ستون کا مستحکم ہونا بھی ضروری ہے، میڈیا سے محاذ آرائی کسی بھی صورت میں مناسب نہیں، میں نے پہلے بھی روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے متعلق آپ کو آگاہ کیا تھا اور اب 24 نیوز کا لائسنس معطل کرنے پر آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ 24 نیوز کے خلاف حالیہ کارروائی سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ ریاست کے چوتھے ستون کو نشانہ بنایا جارہا ہے، آئین میں دئیے گئے اظہار رائے کی آزادی کے حق کو سلب کیا جارہا ہے جبکہ وطن عزیز کو پہلے ہی سے کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جب وزیراعظم تھا تو اس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد صاحب میرے پاس ایک سمری لے کر آئے تھے جس میں لکھا تھا کہ ٹی وی لائسنس کیلئے جو بھی 50 لاکھ روپے فیس جمع کروا دے اس کو بلارکاوٹ ٹی وی چینل کا لائسنس دے دیا جائے۔ میں نے اس وقت بطور وزیراعظم کہا تھا کہ 50 لاکھ فیس کی ضرورت نہیں۔ ایک ایسا  ایم او یو تیار کیا جائے جس میں حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی خبر کو تحمل سے برداشت کیا جائے لیکن ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی خبر پر ہرگز کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے بلکہ اس ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کی جائے، میں نے چند دن پہلے سینیٹر شبلی فراز صاحب جو اس وقت وزیر اطلاعات ہیں، ان کو یہ کہا تھا کہ آپ احمد فراز صاحب کے بیٹے ہیں امید ہے کہ آپ اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں گے کیونکہ زندگی کے ہر طبقہ میں آپ کے والد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ یہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جا سکتے ہیں، امید ہے کہ آپ وزیراطلاعات کو کہیں گے کہ تمام چینلوں کے مالکان کے ساتھ معاملات میز پر بیٹھ کر حل کریں، ان کے واجبات ادا کیے جائیں تاکہ میڈیا ورکرز کو تنخواہیں مل سکیں، مزید یہ کہ 24 نیوز کا لائسنس معطل کرنے کے اقدام کو فوری واپس لیا جائے تاکہ میڈیا ورکرز کو بے روزگاری سے بچایا جا سکے کیونکہ آئین و قانون کی سربلندی ہی تمام مسائل کا حل ہے۔

Share