اللہ کریم سے معافی مانگیں، قائداعظمؒ کے بتائے اصولوں پر ایمانداری سے چلنے کا عہد کریں: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی، مونس الٰہی

روایتی بیانات کی بجائے کشمیری بیٹیوں کو بھارتی درندوں سے بچانے اورآزادیئ کشمیر کیلئے نیا اور مؤثر لائحہ عمل بنانا ہو گا

قوم صرف قائداعظمؒ کا پاکستان چاہتی ہے، اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے اصولوں پر عمل کر کے ہی تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں

لاہور(13اگست2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی ایم این اے نے یوم آزادی پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ قیام پاکستان کی سالگرہ پر ہمیں اللہ کریم کا دل کی گہرائیوں سے شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے خواستگار ہوں اور فرمودات بانی پاکستان پر چلنے کا عہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوم آج بھی صرف قائداعظمؒ کا پاکستان چاہتی ہے، ہمارے تمام مسائل و مشکلات اور مادرِوطن کو درپیش خطرات کی سب سے بڑی وجہ قیام پاکستان کے عظیم مقاصد کو فراموش کرنا ہے، ہمیں نئی نسل کو ان مقاصد سے پوری طرح آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگی قائدین نے کہا کہ یوم آزادی ہر سال ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے، دین اسلام کے نام پر حاصل ہونے والا پاک وطن تقاضا کرتا ہے کہ ہم اللہ پاک سے معافی مانگیں اور آج پکا وعدہ کریں کہ اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے سنہری اصولوں پر چلتے ہوئے آئندہ ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ پیارے وطن پاکستان کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جشن آزادی کی خوشیوں میں ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں پر ہونے والے ظلم اور بربریت پر بھارتی حکومت کا سیاہ چہرہ بے نقاب کرنا ہو گا، روایتی بیانات کی بجائے مقبوضہ کشمیر کے ان ماں باپ کا ذکر بھی کریں جس کی نابالغ بچی کو اٹھا کر بیرکوں میں لے جاتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اسے دلہن کے کپڑے پہنا کر واپس گھر پہنچا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اب اس کا نکاح کر دیں، صبح اس کے ماں باپ اس شرمناک واقعے کی رپورٹ کون سے تھانے میں درج کروائیں گے، وہ کیا بتائیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔ مسلم لیگی قائدین نے مزید کہا کہ ہمیں سمجھنا پڑے گا اور اس کا حل نکالنے کیلئے نئے سرے سے لائحہ عمل بنانا پڑے گا کیونکہ کشمیر کی آزادی تکمیل پاکستان کا آخری مرحلہ ہے۔

Share