گذشتہ حکومت ریسکیو 1122 کی بہتری کیلئے کام کرتی تو یہ محکمہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا: چودھری پرویزالٰہی

ریسکیو 1122 کے ادارے کو خودمختار بنانا چاہتے ہیں، سروس سٹرکچر، سٹاف کی ریگولرائیزیشن، پروموشن، ریسکیو ایمرجنسی اور دیگر ایشوز کے حل کیلئے محکمہ ایک ہفتہ میں تجاویز پیش کرے

سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی ریسکیو 1122 کے حوالہ سے اسمبلی کی سپیشل کمیٹی نمبر 13 کی میٹنگ میں گفتگو

لاہور(17ستمبر2020) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت اگر دس سال میں ریسکیو 1122 کی بہتری کیلئے کام کرتی تو یہ ادارہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا، یہ محکمہ پچھلے دس سالوں سے لاوارث ہو گیا تھا ہم اس ادارے کو مکمل خودمختار محکمہ بنانا چاہتے ہیں، 2006 کے ایکٹ 1122 کے سیکشن 6 کے تحت پنجاب ایمرجنسی کونسل اس لئے بنائی گئی تھی کہ ایمرجنسی سروس بغیر کسی مداخلت کے موثر انداز سے کام کر سکے لیکن بجائے اس میں بہتری لانے کے اس کو مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے یہ محکمہ اپنے فرائض صحیح طور پر ادا نہیں کر سکا جس سے سروس ریگولیشنز اور باقی دیگر اہم معاملات التوا کا شکار ہیں، دس سال سے ملازمین نہ ریگولر ہوئے اور نہ ہی ان کی پرموشن ہو سکی جس کی وجہ سے وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ادارے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے اسمبلی کی سپیشل کمیٹی نمبر 13 کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا جس میں ارکان اسمبلی میاں مناظر علی رانجھا، ساجد احمد خان بھٹی، ملک احمد علی او لکھ، ملک ندیم کامران، ملک محمد احمد خان، راجہ یاور کمال، سید عثمان محمود، خدیجہ عمر فاروقی، نوابزادہ وسیم خان، مس سونیا، میاں شفیع محمد، میاں محمد اختر حیات پارلیمانی سیکرٹری ہوم سمیت ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن آغا، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک نے شرکت کی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 کے تیار سٹیشنوں کو جلد ازجلد فنکشنل کیا جائے، سروس سٹرکچر، سٹاف کی ریگولرائزیشن، پروموشن اور ریسکیو ایمرجنسی دیگر ایشوز کے حل کیلئے محکمہ ایک ہفتہ میں تجاویز پیش کرے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ریسکیو 1122 عوامی خدمت کا ایسا منصوبہ تھا جس نے بلا تفریق مخلوق خدا کی خدمت کی، میں نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں جس مقصد کیلئے ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122کا محکمہ بنایا تھا بدقسمتی سے اگلی حکومت نے اس مقصد کو پورا نہ کیا اور محکمہ کے مسائل پر کوئی توجہ نہ دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے اس ادارے کی بار بار محکمانہ تبدیلی کی وجہ سے اسے

rolling stone

بنایا گیا اور افسوس یہ ہے کہ اسے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے شہری دفاع کے سیکشن کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جس سے اسے فوراً علیحدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سپیکر نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں اس محکمہ کی بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کیا گیا، اب تعمیر شدہ سٹیشنوں کو جلد از جلد فنکشنل اور جدید مشینری فراہم کریں گے۔ ریسکیو 1122 کے ڈی جی ڈاکٹر رضوان نصیرنے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 ہمہ وقت عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2005ء کے زلزلہ کے دوران ریسکیو 1122 نے لازوال سروسز مہیا کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 15 سالوں میں 85 لاکھ سے زائد لوگوں کو ریسکیو کر چکے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ کے مسائل کے حوالہ سے اب تک چار میٹنگز منعقد ہوئی ہیں۔ اس موقع پررکن اسمبلی میاں مناظر علی رانجھا نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی نے خصوصی لے کر ایمرجنسی سروس 1122 کا محکمہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس محکمہ کیلئے ایسی قانون سازی کی جائے کہ ان کے مسائل کا مستقل حل نکل سکے۔ رکن اسمبلی خدیجہ فاورقی نے چودھری پرویزالٰہی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو1122 نے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائیں۔ رکن اسمبلی ملک ندیم کامران نے کہا کہ ریسکیو 1122 خدمت کے جذبہ سے سرشار ہے۔ رکن اسمبلی سید عثمان محمود نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی محرومیاں دور کرنے کیلئے چودھری پرویزالٰہی کی کمٹمنٹ قابل تعریف ہے۔

Share