نوازشریف نے ہر دفعہ اقتدار ملنے کے بعد فوج سے لڑائی اور اداروں کو کمزور کیا: چودھری شجاعت حسین

انہیں بطور وزیراعظم قومی استحکام، یکجہتی اور ملکی سلامتی پیدا کرنا چاہئے تھا جو انہوں نے نہیں کیا

لاہور(21ستمبر2020) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے نوازشریف کی تقریر پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ نوازشریف نے ہر دفعہ اقتدار ملنے کے بعد فوج سے لڑائی کی اور اداروں کو کمزور کیا، انہیں بطور وزیراعظم قومی استحکام، یکجہتی اور ملکی سلامتی پیدا کرنا چاہئے تھا جو انہوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف نے سیاستدانوں کی بجائے فوج کو ہدف تنقید بنایا، ان کی تقریر جن مشیروں نے لکھی اور کروائی ہے انہوں نے ایک مرتبہ پھر نوازشریف کے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے، ان کی تقریر کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سیاستدانوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ نوازشریف نے اپنی تقریر میں رگنگ کا حوالہ تو دیا لیکن اپنے حق میں کی گئی رگنگ کو بھول گئے، نوازشریف کا کہنا تھا کہ ملک کو لیبارٹری بنا دیا گیا جبکہ اس لیبارٹری کی بنیاد انہوں نے خود رکھی تھی اور 1990ء کے الیکشن میں دن بارہ بجے خود ہی رزلٹ کا اعلان کر دیا جبکہ الیکشن کمیشن نے شام کو اعلان کرنا تھا، اس وقت نوازشریف نے ہی الیکشن کمیشن کو درخواست کی تھی کہ فوج الیکشن کی ذمہ داری لے، اس وقت فوج اچھی تھی اب بری ہوگئی، نوازشریف نے اداروں پر انتخابات کو ہائی جیک کرنے اور بددیانتی کا الزام لگایا جبکہ یہی کام وہ خود وزیراعظم بننے کیلئے کر چکے ہیں، نوازشریف کو چیئرمین نیب پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا کہ ان کی نامزدگی خود انہوں نے ہی کی تھی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ فیصلے نوازشریف نے نہیں بلکہ عوام نے کرنے ہیں اور اب عوام دوبارہ بددیانتی کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی۔

Share