پنجاب کے انتہائی اہم ایوان کے سامنے متعدد پرائیویٹ بلند و بالا عمارتیں خلاف قانون اور سکیورٹی رسک ہیں: چودھری پرویزالٰہی

بلڈنگ بائی لاز کے مطابق تاریخی عمارتوں کے آس پاس ایسی عمارتیں نہیں بنائی جا سکتیں، اسمبلی کی نئی بلڈنگ کا سٹرکچر آٹھ سال سے کھڑا ہے اس کا انتظام پہلے سے ہی ہو جانا چاہئے تھا لیکن ن لیگ کی حکومت نے اس ایشو پر کوئی توجہ نہیں دی

سپیکر پنجاب اسمبلی کی وزیر قانون، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈی جی ایل ڈی اے، ڈی سی لاہور اور دیگر افسران کے ساتھ میٹنگ میں گفتگو

لاہور(12اکتوبر2020) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب کے انتہائی اہم ایوان کے سامنے متعدد پرائیویٹ بلند و بالا عمارتیں سیکیورٹی رسک ہیں، بلڈنگ بائی لاز کے مطابق تاریخی عمارتوں کے آس پاس ایسی عمارتیں بنانا خلاف قانون ہیں، اسمبلی کی نئی بلڈنگ کا سٹرکچر آٹھ سال سے کھڑا ہے جو دسمبر میں شروع ہو جائے گی اس کا انتظام پہلے سے ہی ہو جانا چاہئے تھا لیکن ن لیگ کی حکومت نے اس ایشو پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیر قانون محمد بشارت راجہ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ طاہر خورشید، ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ، ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک اور دیگر افسروں کے ساتھ میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میٹنگ میں ایڈیشنل کمشنر امان انور، چیف کارپوریشن آفیسر حافظ شوکت علی، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عائشہ مطہر، سیکرٹری کوآرڈی نیشن پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین بابر، ڈی جی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک بھی موجود تھے۔ گذشتہ دنوں سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے اسمبلی کی زیر تعمیر بلڈنگ کا دورہ کیا تھا اوراس موقع پر یہ بات مشاہدہ میں آئی تھی کہ بلڈنگ کے سامنے ایک بلند پلازہ تعمیر کیا جا رہا ہے جس کے بعد سپیکر کی ہدایات پر وزیر قانون محمد بشارت راجہ نے آج کی یہ میٹنگ منعقد کروائی جس کی صدارت سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کی۔ اس موقع پر سپیکر نے مزید کہا کہ قانون سے کوئی بالا تر نہیں، قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ سپیکر نے کہا کہ بلڈ نگز سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ بعدازاں چودھری پرویزالٰہی کی ہدایت پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈی جی ایل ڈی اے، ڈی سی لاہور اور میٹنگ کے دیگر شرکاء نے اسمبلی کی زیر تعمیر بلڈنگ کا دور ہ بھی کیا۔

Share