گندم کی امدادی قیمت دو سو روپے بڑھا کر کسانوں کا مذاق اڑایا گیا، کم از کم قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کی جائے: چودھری پرویزالٰہی

اَسّی فیصد کسان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، کسانوں کو ریلیف نہ ملا تو وہ گندم کی بجائے دوسری فصل کاشت کرنے پر مجبور ہو گا

ملک میں گندم کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، کسان کو ریلیف دینے کیلئے کھاد، پٹرول، ڈیزل اور ادویات کی قیمتیں کم کی جائیں تاکہ کسان گندم کاشت کر سکیں

لاہور (27اکتوبر2020) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ گندم کی فی من امدادی قیمت صرف دو سو روپے بڑھا کر کسانوں کا مذاق اڑایا گیا، فی من گندم کی کم از کم قیمت دو ہزار روپے مقرر کی جائے، مارکیٹ میں گندم چوبیس سو روپے فی من فروخت ہو رہی ہے اگر پنجاب گندم میں ہمارے دور کی طرح خود کفیل ہونا چاہتا ہے تو اسے کسانوں کا خیال رکھنا ہو گا ورنہ اس کا منفی اثر پڑے گا اور کسان کسی دوسری فصل کی کاشت کرنے پر مجبور ہو گا، امدادی رقم سے گندم لگانے کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا تو کسان کیا بچائے گا، کیا کھائے گا اور کیا لگائے گا، پنجاب اسمبلی کی سپیشل ایگریکلچر کمیٹی کی سربراہی بھی خود کر رہے ہیں لیکن وہاں بھی اس حوالے سے مایوسی ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ کسانوں کو گندم کی یہ قیمت کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گی، اَسّی فیصد کسان وہ طبقہ ہے جو ملک کو غذائی اشیاء فراہم کرتا ہے لیکن یہ طبقہ اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، گندم غریب کی ضرورت ہے اس لیے کسانوں کو گندم کی اچھی قیمت ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سولہ سو روپے فی من امدادی قیمت سے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اگر کسانوں کو ریلیف نہ دیا گیا تو اگلے سال ملک میں گندم کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، اس وقت کسان سوچ رہا ہے کہ گندم کی بجائے کوئی دوسری فصل کاشت کی جائے جس سے معاشی مشکلات حل ہوں، کھاد، پٹرول، ڈیزل اور ادویات کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے گندم کاشت کرنا ممکن نہیں رہا، کسانوں کو ریلیف نہیں مل رہا اگر یہی حال رہا تو کسان اگلے سال چارہ اور سبزیاں کاشت کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے مہنگی گندم درآمد کرنا کسان کے پیٹ پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

Share