پنجاب اسمبلی نے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کردی

اٹھارویں ترمیم کے بعد فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے میں صوبے بااختیار ہیں، عملدرآمد کر کے دو ہفتے میں رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے: سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی محکمہ زراعت اور دیگر ذمہ داران کو ہدایات

پنجاب اسمبلی میں ایگریکلچرل کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں جن کی ایوان نے متفقہ طور پر منظوری دے دی

لاہور(09نومبر2020) پنجاب اسمبلی نے کسانوں کے معاشی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی فصل کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کر دی۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت اجلاس میں اسمبلی نے زرعی کمیٹی کی سفارشات متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ اس موقع پر سپیکر نے محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے پر عملدرآمد کر کے دو ہفتے میں رپورٹ اسمبلی پیش کرنے کا حکم دیا۔ 2 ستمبر 2020ء کو دوران اجلاس رکن اسمبلی جناب صفدر شاکر نے تحریک پیش کی تھی جس میں کہا گیا کہ ایوان صوبہ پنجاب میں زرعی اجناس مثلاً گندم، چاول، مکئی، چناو دیگر پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافے، مناسب ریٹس، کاشتکاروں کے تحفظ، نئی منڈیوں تک رسائی، معیاری بیجوں کی تیار ی، شو گرسیس سے سڑکوں کی تعمیر، زراعت سے متعلق ریسرچ کے فروغ، بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال، کسانوں کا استحصال روکنے اور پانی کے استعمال کیلئے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال وغیرہ کے معاملات کو دیکھے۔ ایوان نے یہ تحریک منظور کر لی اور ان ایشوز پر غورو خوض کیلئے سپیکر پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی سربراہی میں ایگریکلچرل کمیٹی بنائی جس کی دوسری میٹنگ آج پنجاب اسمبلی میں سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں سفارشات کی گئیں کہ ہماری 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، ہمارا کسان پہلے ہی پسا ہوا ہے، پاکستان کی خوشحالی کسان کی خوشحالی سے مشروط ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے میں صوبے بااختیار ہیں لہٰذا گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقررکی جائے۔ بعدازاں یہ سفارشات رکن پنجاب اسمبلی میاں شفیع محمد نے ایوان میں پیش کیں جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے ووٹنگ کروائی، تمام ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر یہ سفارشات متفقہ طور پر منظور کیں۔

Share