گلگت بلتستان کو پی پی پی اور ن لیگ عبوری صوبہ کا درجہ دینے کی باتیں کر رہی ہیں جبکہ چودھری شجاعت حسین نے اسے قانون ساز اسمبلی کے علاوہ گورننس لاز میں تبدیلی کا اختیار بھی دے دیا تھا: کامل علی آغا

نوز شریف فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر آتے ہیں اور آج اسی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ان کا ساتھ دیں گے، فوج کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں

ہم نے قراقرم یونیورسٹی، سات ہزار کلومیٹر سٹرکیں بنائیں، پہلی بار ان علاقوں کو شناخت ملی جن سے لوگ ناواقف تھے ہماری پارٹی نے ریسکیو جیسی سروس شروع کی جو آج گلی گلی میں عوام کی خدمت کر رہی ہے: گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی 3 کے امیدوار کیپٹن شفیع اور جنرل سیکرٹری آصف قریشی نے بھی خطاب کیا

لاہور(11نومبر2020) پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر کامل علی آغا نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، پاکستان کا یہ خوبصورت علاقہ کسی نعمت سے کم نہیں، پاکستان مسلم لیگ نے کبھی جھوٹے وعدے نہیں کئے ہم نے ہمیشہ بغیر وعدوں کے عوام کی خدمت کی ہے، دوسری جماعتوں نے دس سال حکومتوں میں رہنے کے باوجود کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں کی اور جب اقتدار ختم ہوا تو عوام کے سامنے مظلوم بن کر آ گئے ہیں۔ وہ گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی 3 میں مسلم لیگی امیدوار کیپٹن (ر) شفیع کے انتخابی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ کامل علی آغا نے کہا کہ نوازشریف ہمیشہ فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر آئے لیکن آج اسی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، ہماری پارٹی افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ان کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شخصیت مضبوط ہونے سے ملک مضبوط نہیں ہوتا، ریاست کو مضبوط اور خوشحال بنانے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ کیپٹن شفیع کو جی بی 3 سے کامیاب کروائیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں، گلگت بلتستان کو پی پی پی اور ن لیگ عبوری صوبہ کا درجہ دینے کی باتیں کر رہی ہیں جبکہ پرویزمشرف کے دور میں چودھری شجاعت حسین نے گلگت بلتستان کو قانون ساز اسمبلی کادرجہ دینے کے ساتھ ساتھ گورننس لاز میں تبدیلی کا اختیار بھی دے دیا تھا، یہ اب کون سا عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں، اس علاقے کے لوگوں کو اب سینیٹ اور وفاق میں ہمارے ساتھ اسمبلیوں میں ہونا چاہئے، ہم چاہتے ہیں کہ اس صوبے کو وہی اختیارات ملیں جو دوسرے صوبوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی، ڈرائی پورٹ اور سات ہزار کلومیٹر سٹرکیں بنائیں جس سے پہلی بار ان علاقوں کو شناخت ملی جن سے لوگ نا واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا منصوبہ غذر سے ڈیول کیرج وے کے ذریعے روس کی نو آزاد ریاستوں سے ملانے کا تھا تاکہ تجارت شروع ہو، اس پر کام شروع تھا لیکن حکومت ختم ہونے پر یہ منصوبہ جہاں ہم چھوڑ کر گئے تھے وہیں پرہے اور اربوں روپے کی رقم نہ جانے کون ہڑپ کر گیا، ہماری پارٹی نے عوامی خدمت کیلئے ریسکیو 1122 جیسی سروس شروع کی جو آج گلی گلی میں جا کر عوام کی خدمت کر رہی ہے، صوبہ گلگت بلتستان کی خدمت کرنا ہمارا عزم ہے۔ اس مو قع پر مسلم لیگی امیدوار کیپٹن (ر) شفیع اور گلگت کے جنرل سیکرٹری آصف قریشی نے بھی خطاب کیا۔

Share