وزیر آباد کارڈیالوجی کا منظور شدہ بجٹ چھ ماہ سے نہیں دیاجارہا، کیا فائدہ ایسے بجٹ کا جو کمیٹیوں میں گھومتا رہے، چودھری پرویزالٰہی

فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال کافی گھمبیر ہو گئی ہے، 200 مریض آپریشن کے انتظار میں ہیں اور سارے انتظامی امور زیر التواء ہیں: سپیکر پنجاب اسمبلی کا اجلاس کے دوران اظہارِ خیال

لاہور(21دسمبر2020) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ وزیر آباد کارڈیالوجی کا منظور کردہ فنڈز ابھی تک ریلیز نہ ہو سکا جس سے صورتحال گھمبیر ہو گئی ہے، وزیر آباد کارڈیالوجی کا منظور شدہ بجٹ چھ ماہ سے نہیں دیاجارہا، کیا فائدہ ایسے بجٹ کا جو کمیٹیوں میں گھومتا رہے، فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے 200 مریض آپریشن کے انتظار میں ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فنڈز کی عدم دستیابی سے ہسپتال کے سارے انتظامی امور زیر التواء ہیں، وزیراعظم عمران خان نے بھی اس منصوبے کی تعریف کی تھی۔ سپیکر نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی وزیر آباد کارڈیالوجی کے بارے میں بات کی تھی مگر کچھ نہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیا کررہی ہے اسمبلی سے پاس کردہ بجٹ کو کیوں نہیں جاری کیا جا رہا؟ اگر اسمبلی کے فیصلوں کو نہیں ماننا تو اس اسمبلی کا کیا فائدہ اسے بند کر دیاجائے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں فنانس کمیٹی آف ڈویلپمنٹ بڑی رکاوٹ ہے۔ بعدازاں سپیکر نے معاملہ سپیشل کمیٹی نمبر بارہ کے سپرد کر دیا۔ قبل ازیں وقفہ سوالات میں محکمہ محنت و انسانی وسائل سے متعلق سوالات کیے گئے۔ صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ نے ایوان میں پانچ آرڈیننس جن میں آرڈیننس دی شوگر فیکٹریز (کنٹرول) (ترمیم)2020، آرڈیننس دی شوگر فیکٹریز (کنٹرول) (دوسری ترمیم)2020، آرڈیننس دی پنجاب لوکل گورنمنٹ(ترمیم)2020، آرڈیننس(ترمیم) 2020، The Companies Profits (Workers’ Participation) آرڈیننس، دی پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن 2020 پیش کیے جنہیں سپیکر پنجاب اسمبلی نے پیش کرنے کی منظوری دی۔ بعد ازاں اسمبلی نے مذکورہ بالا تمام آرڈیننس میں 90 دن تک کیلئے توسیع کر دی۔ وزیر ِقانون محمد بشارت راجہ نے سات آرڈیننس ایوان میں پیش کیے، جن میں آرڈیننس دی شوگر فیکٹریز (کنٹرول) (دوسری ترمیم) 2020، دی پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن (ترمیم) 2020، آرڈیننس دی پنجاب لوکل گورنمنٹ(ترمیم)2020، آرڈیننس(ترمیم) 2020 The Companies Profits (Workers’ Participation)، آرڈیننس دی پنجاب اورسیز پاکستانیز کمیشن 2020، دی پنجاب ہوٹلز اینڈ ریسٹورینٹس(ترمیم)، آرڈیننس دی پنجاب ٹورسٹ گائیڈ (ترمیم)شامل تھے جنہیں سپیکرنے ایوان کی رائے سے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا اور دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر ِقانون نے چارمسودہ قانون دی ساؤتھ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2020، ڈیرہ غازی خاں بل 2020، ”The Protection Against Harresment of Women At The Workplace” (ترمیم) بل2020، دی پنجاب ڈرگز(ترمیم) 2020، ”The Punjab Privitazation Board” (تنسیخ) بل2020بھی ایوان میں متعارف کروائے۔ بعد ازاں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس منگل مورخہ 22دسمبر 2020 دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی سربراہی میں پنجاب اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا سپیکر چیمبر میں اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون محمد بشارت راجہ، صوبائی وزیر چوہدری ظہیرالدین اور اراکین اسمبلی ملک ندیم کامران ملک، سمیع اللہ خان، خلیل طاہر سندھو اور ارشد ملک کی شرکت۔ اجلاس میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک بھی شریک ہوئے۔ سپیکر نے سابق وزیراعظم پاکستان ظفر اللہ جمالی، ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کے دادا سردار شیر باز مزاری، سابق نگران وزیر اعلی و اپوزیشن لیڈر میاں محمد افضل حیات، لیڈر آف اپوزیشن حمزہ شہباز شریف کی دادی، سابق ممبر صوبائی اسمبلی ناظم حسین شاہ کی وفات پر ایصال ثواب کیلئے اسمبلی میں فاتحہ خوانی کروائی۔ وزیر قانون محمد بشارت راجہ، صوبائی وزیر انرجی ڈاکٹر محمد اختر، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی اسمبلی عنایت اللہ لک بھی فاتحہ خوانی میں شریک تھے۔ بعدازاں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے صوبائی وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ سے ان کے بھائی پیر سید فیض الحسن شاہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کی۔ وزیر قانون محمد بشارت راجہ، صوبائی وزیر انرجی ڈاکٹر محمد اختر، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی اسمبلی عنایت اللہ لک بھی فاتحہ خوانی میں شریک تھے۔

Share