بے روزگاراور تنخواہ دار طبقے کے مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل میں ہماری جماعت بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی چاہے سیاسی نقصان ہی کیوں نہ ہو: چودھری شجاعت حسین

فوج جب بھی اقتدار میں آئی انہوں نے ہفتے کے اندر اندر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کسی کی پرواہ کیے بغیرسختی سے اقدامات کیے

کرپشن صرف رشوت لینا دینا نہیں ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں من مانی اضافہ بھی کرپشن ہے، کاروباری طبقہ بیٹھے بیٹھے ایک آئٹم کی قیمت سو سے بڑھا کر دو سو کر دیتا ہے جس کا نقصان صرف تنخواہ دار طبقہ برداشت کرتا ہے

اگر حکومت اصل ڈگر سے ہٹ کر گورکھ دھندے میں پڑ گئی تو ڈر ہے کہ جو لاوا غریب آدمی کے اندر پک رہا ہے اس کی زد میں نہ صرف حکمران بلکہ تمام سیاستدان آئیں گے

لاہور(08جنوری2021) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ بیروزگار اور تنخواہ دار طبقہ کی بہتری اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی بھی پارٹی لائحہ عمل بناتی ہے تو پاکستان مسلم لیگ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی اور ہر قسم کا تعاون کرے گی چاہے اس میں ہمیں سیاسی نقصان ہی کیوں نہ ہو، حکومت ایک سال کیلئے تمام منصوبے ملتوی کر دے غربت دور کرنے کیلئے ایک سال کا شارٹ ٹرم منصوبہ بنائے جس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ باہمی اختلافات اور سیاستدان اپنی اپنی سیاست بھول کر عوام کی تکلیف دور کرنے کیلئے اکٹھے ہوں، مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ اس میں ضرور کامیابی ملے گی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کرپشن صرف رشوت لینے دینے کا نام نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں من مانی اضافہ بھی ایک قسم کی کرپشن ہے، شخصیات کی کرپشن پر تو سب دھیان دیتے ہیں لیکن ٹیکنیکل طریقے سے کرپشن کرنے والے کو کوئی نہیں پوچھتا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ اپنے منافع کا خود تعین کرتا ہے اور بیٹھے بیٹھے ایک آئٹم کی قیمت سو روپے سے بڑھا کر دو سو روپے کر دیتا ہے جس کا نقصان صرف اور صرف تنخواہ دار طبقہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ تو اپنی تنخواہ میں خود اضافہ نہیں کر سکتا، ایسے میں وہ اپنی فریاد کس کے پاس لے کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا خیال رکھنے والی حکومتیں ہی دلوں میں بستی ہیں، تحریک انصاف کی حکومت اگلے اڑھائی سال عوام کی مشکلات ختم کرنے کو ایک چیلنج کے طور پر لے اور تمام سیاسی و ذاتی مصلحتیں بھلا کر صرف اور صرف عوام کے اصل مسائل کو دور کرنے کی طرف توجہ دے اگر حکومت اصل ڈگر سے ہٹ کر گورکھ دھندے میں پڑ گئی تو ڈر ہے کہ جو لاوا غریب آدمی کے اندر پک رہا ہے اس کی زد میں نہ صرف حکمران بلکہ تمام سیاستدان آئیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ فوج جب بھی اقتدار میں آئی انہوں نے سب سے پہلے ہفتے کے اندر اندر سارے کام چھوڑ کر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام آدمی اور تنخواہ داروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف لائحہ عمل مرتب کیا جائے ورنہ تمام سیاستدانوں کو اگلے الیکشن میں سخت مزاحمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ملک ایسی آفت میں پھنس جائے گا جس سے نکلنا مشکل ہو گا۔

Share