مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات ہیں جنگ نہیں، کشمیر پر بھارتی انتہا پسندی بند کی جائے: چودھری شجاعت حسین، بیرسٹر سلطان محمود

عالمی دنیا سہ فریقی مسئلہ حل کروانے میں کردار ادا کرے اور بھارت کے ظلم و ستم کا نوٹس لے، کشمیری عوام کو اپنی آزادی کا حق حاصل ہے

کشمیر کا مسئلہ قومی مسئلہ ہے تمام سیاسی رہنما پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر کشمیر کا سوچیں، کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دینی چاہئے: ملاقات کے موقع پر گفتگو

لاہور(18فروری2021) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر موجودہ ملکی سیاسی صورتحال سمیت کشمیر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سینیٹر کامل علی آغا، چودھری صباحت الٰہی اور رانا خالد بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ قومی مسئلہ ہے، تمام سیاسی رہنما پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر سوچیں، کشمیریوں پر بھارتی ظلم بند ہونا چاہئے، بھارتی انتہا پسندی حد سے بڑھتی جا رہی ہے عالمی دنیا نوٹس لے، اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو بند کروائے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دینی چاہئے یہ سہ فریقی مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر میں اصل فریق کشمیری عوام ہیں ان کی رائے کے بغیر کوئی بھی حل کسی کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو گا جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں، بھارت نے جنگیں کر کے دیکھ لیا ہے جس کا کوئی حل نہیں نکلا۔ اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے کشمیر کے موقف پر چودھری شجاعت حسین کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا فیصلہ خود کرے، بھارت پاکستان کے ساتھ کشمیری بھی اس مسئلہ کا فریق ہے لہٰذا یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہئے۔

Share