نظریہ پاکستان اور فکر پاکستان کے خلاف کوئی بھی قدم پاکستان کی اساس اور کلمہ طیبہ کے پرچم کے نیچے جدوجہد کے خلاف ہوگا: چودھری پرویزالٰہی/ حافظ طاہر اشرفی

پنجاب اسمبلی سے پاس کردہ ایکٹ پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اقلیتی ارکان کے دستخط موجود ہیں لہٰذا اسلامی کتب میں شامل شریعت اسلامیہ اور تاریخ اسلام سے اقلیتوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں

ایک رکنی اقلیتی کمیشن کی نصاب تعلیم سے اسلامی تعلیمات اور تاریخ کو نکالنے کی سفارشات نہایت نامناسب ہیں جس سے ملک میں انتشار اور فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہے: چودھری پرویزالٰہی اور حافظ طاہر اشرفی کا اتفاق

لاہور(23اپریل2021) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور چیئرمین متحدہ علماء بورڈ حافظ محمد طاہر اشرفی نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ چودھری پرویزالٰہی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظریہ پاکستان اور فکر پاکستان کے خلاف کوئی بھی قدم پاکستان کی اساس اور کلمہ طیبہ کے پرچم کے نیچے جدوجہد کے خلاف ہوگا، پنجاب اسمبلی سے پاس کردہ ایکٹ پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اقلیتی ارکان کے دستخط موجود ہیں لہٰذا اسلامی کتب میں شامل شریعت اسلامیہ اور تاریخ اسلام سے اقلیتوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ رب العالمین ہے اور رسول کریم ﷺ رحمتہ للعالمین ہیں، یہ ملک اسلام کی وجہ سے قائم ہے، اسلامی تعلیمات کو کسی صورت نصاب سے نہیں نکالا جا سکتا، تاریخ پاکستان اسلام اور اس کیلئے جدوجہد کرنے والے اکابرین کے ساتھ وابستہ ہے، نصابی کتب سے بانیان پاکستان کی اسلام اور مسلمانوں کیلئے خدمات کو کیسے نکالا جا سکتا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی اور حافظ طاہر اشرفی نے اتفاق کیا کہ ایک رکنی اقلیتی کمیشن کی نصاب تعلیم سے اسلامی تعلیمات اور تاریخ اسلام کو نکالنے کی سفارشات نہایت نامناسب ہیں جس سے ملک کے اندر انتشار اور فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ حافظ طاہر اشرفی نے کہاکہ اسلام تمام انسانیت کے حقوق کا محافظ ہے اور اس کی تعلیمات امن و سلامتی پر مبنی ہیں، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اسلام، آئین اور ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے لیکن اکثریت کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم طلبہ اگر اسلامی تعلیم اور تاریخ کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتے تو ان کے پاس پڑھنے یا نہ پڑھنے کا اختیار موجود ہے۔

Share