خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اگر کہیں ظلم ہو رہا ہو اور دوسرے مسلمان اس پر خاموش رہیں اور اسے روکنے کیلئے کردار ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی اس کے اندر مبتلا کر دیئے جائیں گے: چودھری پرویزالٰہی

مسلمان کی کامیابی، ہدایت اور ترقی کا واحد راستہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید اور آخری نبیﷺ کی سنت پر عمل کر نے میں ہی ہے، ان پر عمل پیرا ہو کر ہی مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں

فلسطینی ہمارے کلمہ گو مسلمان بھائی ہیں ہم سب خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے دامن سے وابستہ ہیں، فلسطینیوں پر ظلم کیا جا رہا ہے ہمیں اپنے مفادات سے نکل کر عملی میدان میں آگے آنا ہوگا

پنجاب کے تمام سکولوں میں قرآن پاک اب لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا: ”دی پنجاب کمپلسری ٹیچنگ آف دی ہولی قرآن ترمیمی بل 2021“ متفقہ منظور ہونے پر چودھری پرویزالٰہی کا ایوان میں خطاب

لاہور(18مئی2021) پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ارکان اسمبلی میاں شفیع محمد، خدیجہ عمر اورساجد احمد خان کی طرف سے ”دی پنجاب کمپلسری ٹیچنگ آف دی ہولی قرآن ترمیمی بل2021“ ایوان میں پیش کیاگیا۔ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد چودھری پرویزالٰہی نے تمام ارکان اسمبلی کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ پنجاب کے تمام سکولوں میں قرآن پاک اب لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا جس سے آئندہ نسلوں کو فائدہ ہوگا، یقین مانئے کہ مسلمان کی کامیابی، ہدایت اور ترقی کا واحد راستہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید اور آخری نبیﷺ کی سنت پر عمل کر نے میں ہی ہے، ان پر عمل پیرا ہو کر ہی مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا فرمان پیش کیاکہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب اور دوسری چیز اللہ کے آخری نبی ﷺ کی زندگی اور ان کی سنت پر عمل کرنا، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے کبھی بھی گمراہ نہیں ہو سکتے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اس قانون کی اس لیے ضرورت پڑی کہ ہماری نسلوں کی اچھی تربیت ہو سکے اور انہیں اسلامی تعلیمات کا صحیح طرح اندازہ ہو جس پر عمل کر کے وہ صحیح معنوں میں اسلام کی پیروی کر کے قائدا عظم اور علامہ اقبال ؒکے خوابوں کی تعبیر کر سکیں اور پاکستان عالم اسلام کی سربراہی کر سکے۔ بعدازاں صوبائی اسمبلی پنجاب میں رولزآف پروسیجر صوبائی اسمبلی پنجاب 1997 کے متعلقہ قواعد کو معطل کر کے فلسطین پر حالیہ اسرائیلی جارحیت اور اس کے نتیجہ میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت بے گناہ اور نہتے فلسطینی مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کی مذ متی قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ مذمتی قرارداد صوبائی وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ نے پیش کی۔ سپیکر نے قرارداد کامتن ایوان میں پڑھا جس میں کہا گیا کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اگر کہیں ظلم ہو رہا ہوگا اور دوسرے مسلمان اس پر خاموش ہوں گے اور اس ظلم کو روکنے کیلئے کردار ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی اس کے اندر مبتلا کیے جائیں گے۔ قرارداد کے متن میں تشویش کا اظہارکیا گیا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے رمضان کے مقدس مہینے میں نہتے فلسطینیوں پر تشدد اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات کی بے حرمتی کی۔ قرارداد میں اسرائیل کوفلسطین میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ فلسطینی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں، ہم سب خاتم النبیین حضرت محمد ﷺکے دامن سے وابستہ ہیں، فلسطینیوں پر ظلم کیا جا رہا ہے ہمیں اپنے مفادات سے نکل کر عملی میدان میں آنا ہوگا، پوری دنیا کے اندر ایک ارب پیسنٹھ کروڑ مسلمان بستے ہیں جو کہ بڑی قوت ہیں اگر سب آواز بلند کریں تو ان کی آواز یں پوری دنیا کے اندر سنی جائیں گی۔ قرارداد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مقدس مقامات کی بے حرمتی بند کیے جانے اور عالمی برادری کواسرائیل کی جارحیت رکوانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اس ضمن میں سلامتی کونسل امن کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ پنجاب اسمبلی کے معزز ایوان نے وفاقی حکومت سے اسرائیلی بربریت کی مذمت اور اسے رکوانے کیلئے بھر پور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید یہ کہ وفاقی حکومت پاکستانی عوام کے جذبات اور احساسات کو اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی نیز انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں تک پہنچائے۔ بعدازاں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ ارکان اسمبلی سمیع اللہ خان، سید حسن مرتضیٰ، طاہر خلیل سندھو، محمد معاویہ، مولانا الیاس چنیوٹی اور ملک احمد خان نے قراردادپر بحث کے دوران کہا کہ وہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں، مظالم کے خلاف ہماری واضح خارجہ پالیسی ہونی چاہئے۔

Share