وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر مثبت اور سادہ، عوامی مسائل کی آگاہی اور ان کے حل کیلئے مثبت تجاویز پیش کرنے کی کوشش کی: چودھری شجاعت حسین

بجٹ کا فائدہ تب ہے کہ تنخواہ دار اور مزدور طبقے کو عملی طور پر فائدہ پہنچے کیونکہ ٹیکس کا سب سے زیادہ اثر تنخواہ دار طبقہ پر پڑتا ہے

سرمایہ دار طبقہ اپنے منافع کا خصوصی حصہ ملازمین کیلئے رکھ دے تو عام آدمی کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کی آمدن میں اور زیادہ برکت فرمائے گا

لاہور(11جون2021) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کی بجٹ پر تقریر بڑی مثبت اور سادہ تھی، تقریر میں اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ نہیں پیش کیا گیا بلکہ عوامی مسائل کی آگاہی اور ان کا حل نکالنے کیلئے مثبت تجاویز پیش کرنے کی کوشش کی ہے، ماضی کی طرح روایتی سیاسی تقریر جس میں وزیراعظم کی مدح سرائی زیادہ کی جاتی تھی تاکہ اگلی صبح وزیراعظم کو یہ بتایا جا سکے کہ انہوں نے کیا تیر مارنے کی کوشش کی ہے، اس کی بجائے عام آدمی کے مسائل پر زیادہ فوکس کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا فائدہ تب ہے کہ تنخواہ دار اور مزدور طبقے کو عملی طور پر فائدہ پہنچے کیونکہ ٹیکس کا اثر سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقہ پر پڑتا ہے، کاروباری طبقہ دو روپے کی چیز چار روپے میں بیچ کر کسی نہ کسی طرح اپنا نقصان پورا کر لیتا ہے لیکن تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن خود نہیں بڑھا سکتا اس کا سارا انحصار مالک پر ہوتا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اگر سرمایہ دار طبقہ مہنگائی اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر اپنے کاروبار کے منافع کا خصوصی حصہ ملازمین کیلئے رکھ دے تو عام آدمی کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کی آمدن اور کاروبار میں اور زیادہ برکت فرمائے گا۔

Share