جنہوں نے ریسکیو 1122 کے قانون پر عملدرآمد کروانے میں رکاوٹیں ڈالیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی: چودھری پرویزالٰہی

اس قانون پرعملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات آئندہ میٹنگ میں تحریری طور پر پیش کی جائیں: سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی سپیشل کمیٹی نمبر 13 کی میٹنگ میں متعلقہ سرکاری افسران کو ہدایت

لاہور(18جون2021) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت آج پنجاب اسمبلی میں سپیشل کمیٹی نمبر 13 کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر قانون محمد بشارت راجہ، ارکان اسمبلی ملک محمد احمد خان، ملک احمد علی اولکھ، ملک ندیم کامران، راجہ یاور کمال، سید عثمان محمود، نوابزادہ وسیم خان، میاں شفیع محمد، میاں جمشید الطاف، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ڈی جی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک نے شرکت کی۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے ریسکیو 1122 کا قانون اسمبلی سے پاس ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے آج سپیشل کمیٹی نمبر 13 کی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس سلسلہ میں رکن اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اسمبلی میں تحریک استحقاق دی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”پنجاب اسمبلی نے 16 جون 2006ء کو ایک ایکٹ پاس کیا جس کی تحت ایمرجنسی سروس 1122 معرض وجود میں آئی، اس ایکٹ میں درج تھا کہ اس ادارے کا انتظام و انصرام چلانے کیلئے متعلقہ محکمہ رولز بنائے گا لیکن سالہا سال گزرنے کے باوجود رولز نہ بن سکے، اس کے پیش نظر 02 مارچ 2021ء کو معزز ایوان نے متفقہ طور پر ایمرجنسی سروسز ترمیمی بل پاس کیا جس کے تحت ڈی جی ریسکیو کی سروسز کو ریگولرائز کرنا تھا، اس ادارے میں کام کرنے والے باقی ملازمین کے معاملات طے کرنے کے علاوہ اسے ایک خوددار محکمہ کا درجہ بھی دینا تھا لیکن چار ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی“۔ اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جن لوگوں نے اس قانون پر عملدرآمد کروانے میں رکاوٹیں ڈالیں ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔ میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، سیکرٹری قانون، سیکرٹری ریگولیشن، سیکرٹری آئی اینڈ سی سے 1122 کے قانون پر عملدرآمد نہ کرنے کی تحریری وضاحت طلب کرنے کا متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا۔ بعدازاں سپیشل کمیٹی کی میٹنگ 21 جون تک ملتوی کردی گئی۔

Share