ملک و قوم کی سلامتی کیلئے تمام قومی اداروں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے: چودھری پرویزالٰہی

پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کرنے کیلئے تمام جماعتوں کو کارکردگی دکھانا ہو گی، مخالفت میں نہیں خدمت میں آگے بڑھیں: سپیکر پنجاب اسمبلی کی گفتگو

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور سینیٹر کامل علی آغا سے پی پی 164 سے ن لیگی امیدوار پنجاب اسمبلی چودھری زین شوکت ڈگراں کی ملاقات، ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت کا اعلان، طلحہ عثمان سدھو بھی موجود تھے

چودھری شجاعت حسین کی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار، پارٹی جو بھی ذمہ داری سونپے گی اس پر پورا اتروں گا، میرے والد مرحوم چودھری شوکت ڈگراں بھی چودھری خاندان کی خدمات کے معترف تھے: زین شوکت ڈگراں

لاہور(25جولائی2021) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر کامل علی آغا سے پی پی 164 سے معروف سیاسی شخصیات نے ن لیگی امیدوار پنجاب اسمبلی چودھری زین شوکت ڈگراں کی سربراہی میں ملاقات کی اور پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر طلحہ عثمان سدھو بھی موجود تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملک و قوم کی ترقی کیلئے بے لوث خدمت کا جذبہ رکھنے والی شخصیات کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا ہے، اس وقت پاکستان بڑے مشکل دور سے گزر رہاہے اسے معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے سب کو باہمی اختلافات بھلا کر ملک کی ترقی کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اکیلا فرد کچھ نہیں کر سکتا، پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کرنے کیلئے تمام جماعتوں کو کارکردگی دکھانا ہو گی اور قومی سلامتی کے اداروں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ مخالفت میں نہیں ملک کی خدمت میں ہم سب کو ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ہو گا، عوام خوشحال ہوں گے تو پاکستان ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے تمام لوگ اس سے بچاؤ کیلئے ویکسین لگوائیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔ ن لیگی سابق رہنما چودھری زین شوکت ڈگراں نے چودھری پرویزالٰہی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کی قائدانہ صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہے، پارٹی مجھے جوبھی ذمہ داری سونپے گی اس پر پورا اتروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد مرحوم چودھری شوکت ڈگراں سابق چیئرمین ضلع کونسل رہے وہ بھی چودھری خاندان کی خدمات کے معترف تھے، ن لیگ کی عوام مخالف پالیسیوں سے متنفر ہو کر 30 سال بعد پارٹی چھوڑی ہے۔

Share