آئی ایم ایف کے 1 ارب ڈالر کیلئے اتنی تگ و دو کر رہے ہیں ہمارا اپنا اصلی آئی ایم ایف اوورسیز پاکستانی ہیں: چودھری شجاعت حسین

یورپین ملکوں میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے خلاف نازیبا الفاظ اور خاکوں کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں نے بھرپور احتجاج کیا ان کے اس جذبے کو پاکستان میں بہت سراہا گیا

بطور وزیر اعظم بیرون ملک انتقال کر جانے والے پاکستانیوں کی میتیں پی آئی اے بغیر کسی معاوضے کے وطن لانے کا قانون بنایا جس سے ان کی بہت سی مشکلات حل ہوئیں

چودھری شجاعت حسین کا حکم تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے یہ تمام سہولیات جاری رکھیں اور انشورنس پالیسی شروع کروائیں، اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، چودھری ظہورالٰہی کی طرح اب بھی ہمارا خاندان ان کی خدمت میں مصروف ہے: چودھری وجاہت حسین

لاہور(11جنوری2022) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے اوورسیز پاکستانیوں کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوورسیزپاکستانی بیرون ملک پاکستان کی شان ہیں، آپ نے 2021 میں ریکارڈ33 ارب ڈالر پاکستان کو بھیجے ہیں، ہم آئی ایم ایف کے 1 ارب ڈالر کیلئے اتنی تگ و دو کر رہے ہیں جبکہ میرے نزدیک ہمارا اپنا اصلی آئی ایم ایف اوورسیز پاکستانی ہیں جو بے لوث ہو کر پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چودھری ظہور الٰہی شہید نے 1978 میں بطور وزیر افرادی قوت و محنت اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن OPF کی بنیاد رکھی اور پاکستانیوں کی بیرون ملک جانے کیلئے رکاوٹیں ختم کیں، ان کی خواہش تھی کہ یہ فاؤنڈیشن فوجی فاؤنڈیشن کی طرز پر کام کرے، OPF آج بھی آپ کی خدمت میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں تقریباً 90 لاکھ پاکستانی ہماری معیشت کا اہم ترین ستون ہیں جو پاکستان کی خدمت اپنی ماں کی طرح کرتے ہیں اور ہر مصیبت میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، میں بھول نہیں سکتا کہ جب 2005 کے زلزلہ میں قوم کو آپ کی ضرورت پڑی تو آپ نے کس فراخدلی کا مظاہرہ کیا، میری اپیل پر پاکستان اور دوبئی میں ہونے والی فنڈ ریزنگ میں آپ نے ایک رات میں ہی 36 کروڑ روپے بھجوا دئیے، اس امداد سے 4500 زلزلہ زدہ خاندانوں کو 3 سال تک ہر ماہ وظیفہ ملتا رہا، میں آپ کی اس محبت کا مقروض ہوں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ بطور وزیر داخلہ نادرا کی بنیاد رکھی جس میں سب سے پہلے کارڈ غلام اسحق خان صاحب اور دوسرا کارڈ میرا بنا تھا، نادرا کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کیلئے NICOP کارڈ بنا جو ہر اوورسیز پاکستانی کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم میری بھرپور کوشش رہی کہ میں اس قلیل عرصہ میں اوورسیز پاکستانیوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکوں، میں نے بطور وزیر اعظم پہلے ہی ہفتے حکم جاری کیا کہ بیرون ملک انتقال کر جانے والے پاکستانیوں کی میتیں پی آئی اے بغیر کسی معاوضے کے وطن لایا کرے گا، اس سے قبل میت واپس بھیجنے پر تقریباً دو ہزار پاؤنڈ سے زیادہ لگتے تھے جو ہر ایک برداشت نہیں کر سکتا تھا، اکثر لوگ ادھار لے کر یا چندہ جمع کر کے میتیں واپس بھیجتے تھے، میں نے ان کی اس پریشانی کو ختم کیا، میری تجویز تھی کہ OPF اپنے طور پر 50 ہزار روپے تابوت اور کفن کی تیاری کے علاوہ کرائے کیلئے دیتی، اسی طرح جب میت پاکستان پہنچتی تو گھر یا گاؤں لے جانے کیلئے لواحقین کو مزید 50 ہزار روپے دئیے جاتے تاکہ وہ آسانی سے تدفین کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میری وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے انشورنس پالیسی شروع کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پرائیویٹ انشورنس کمپنیاں اس میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھیں، اس پر عمران خان نے کہا کہ یہ بڑی اچھی پالیسی ہے اگر پرائیویٹ انشورنس کمپنیاں یہ نہیں کرتیں تو حکومت کی اپنی انشورنس کمپنی موجود ہے جو یہ کر سکتی ہے، مجھے امید ہے کہ انہیں میرے ساتھ کی ہوئی یہ بات یاد ہوگی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے تمام دنیا میں مسلمانوں کی خاطر جو کردار ادا کیا خاص کر یورپین ملکوں میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے خلاف نازیبا الفاظ اور خاکوں کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں نے بھرپور احتجاج کیا ان کے اس جذبے کو پاکستان میں بہت سراہا گیا۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ آپ جہاں بھی رہیں اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھیں اور پاکستان کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیں، جوبھی اس میں ملوث ہو ان کے خلاف کارروائی کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ چودھری وجاہت حسین نے کہا کہ جب میں اوورسیز پاکستانیوں کا وزیر بنا تو چودھری شجاعت حسین نے حکم دیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے یہ تمام سہولیات ہر حال میں جاری رکھیں اور اس کے علاوہ تمام اوورسیز پاکستانیوں کیلئے انشورنس پالیسی شروع کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، چودھری ظہورالٰہی شہید کی طرح اب بھی ہمارا خاندان ان کی خدمت میں مصروف ہے۔ تقریب میں سابق وفاقی وزیر چودھری وجاہت حسین، حسین الٰہی ایم این اے اور شافع حسین بھی شریک تھے جبکہ وفود میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، سپین، ناروے، ساؤتھ افریقہ، اٹلی، فرانس، انگلینڈ، ہالینڈ، جرمنی، بلجیم، یو اے ای اور سعودی عرب کے اوورسیز پاکستانی اور مسلم لیگی عہدیدار شامل تھے۔

Share