پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے گزر رہا ہے، صاف پانی کی فراہمی سب سے بڑا مسئلہ ہے: چودھری پرویزالٰہی

ترجیحی بنیادوں پر فلٹریشن پلانٹ اور صنعتوں کے ضائع شدہ پانی کو قابل استعمال بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے، زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سکیمیں بنانا بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہے، ہماری کوشش ہے کہ سموگ پر قابو پا کر ماحول کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے: سپیکر پنجاب اسمبلی کی وفد سے گفتگو

سپیکر پنجاب اسمبلی سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریزیڈنٹ اینڈ ہیومینٹیرین کوآرڈی نیٹر جولین ہارنیس کی وفد کے ہمراہ ملاقات، شاہ ناصر خان، جودت ایاز، عامر ارشاد، ڈاکٹر فزلدا نبیل، میاں شفیع محمد، فہیم خان، محمد خان بھٹی اور عنایت اللہ لک بھی شریک تھے

لاہور(14جنوری2022) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریزیڈنٹ اینڈ ہیومینٹیرین کوآرڈی نیٹر مسٹر جولین ہارنیس نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔وفد میں اقوام متحدہ ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر آفس کے ہیڈ شاہ ناصر خان، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت ماحولیاتی تبدیلی جودت ایاز، اور اقوام متحدہ کی زراعت و خوراک آرگنائزیشن UNFAO کے نمائندے عامر ارشاد اور ڈاکٹر فزلدا نبیل شامل تھے جبکہ ملاقات میں چیئرمین پینل میاں شفیع محمد، فہیم خان ایم پی اے، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور عنایت اللہ لک بھی شریک تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے گزر رہا ہے، پاکستان سمیت پورے پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی بڑا مسئلہ ہے جس کیلئے ترجیحی بنیادوں پر فلٹریشن پلانٹ اور صنعتوں کے ضائع شدہ پانی کو قابل استعمال بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جانے چاہئیں، بطور وزیراعلیٰ میری کوشش تھی کہ سندر اور فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹس میں تمام فیکٹریاں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ضرور لگائیں مگر افسوس بعد میں آنے والی ن لیگ کے دور میں دس سال تک اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سکیمیں بنانا بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہے، حالیہ چند برسوں میں سموگ کی وجہ سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے، ہماری کوشش ہے کہ سموگ پر قابو پا کر ماحول کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس موقع پر جولین ہارنیس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کنٹری ٹیم وفاق کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھے ہوئے ہے اور صوبائی حکومتیں اقوام متحدہ کے پائیدار مشن کی تشکیل شروع کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی تعاون کا فریم ورک (UNSDCF) 2023-2027 کے حوالے مشاورت کر رہے ہیں، ترقیاتی تعاون کے اس فریم ورک کے ایجنڈے کو 2030 کے منصوبے کیلئے پاکستان کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا، اس سلسلے میں یو این ایس ڈی سی ایف کے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے نتائج کے حصے کے طور پر ہم سندھ کی ماحولیاتی تبدیلی کیلئے قابل عمل ایکشن پلان تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

Share