Sunday , February 5 2023
Breaking News
Home / Featured / شہباز شریف پنجاب دشمنی میں حدیں عبور کرچکے ہیں، گریٹر تھل کینال میں رکاوٹیں حائل کی جا رہی ہیں: چودھری پرویزالٰہی

شہباز شریف پنجاب دشمنی میں حدیں عبور کرچکے ہیں، گریٹر تھل کینال میں رکاوٹیں حائل کی جا رہی ہیں: چودھری پرویزالٰہی

شہباز شریف اپنے اتحادیوں کی خاطر پنجاب کے کاشتکار اور کسانوں کے ساتھ ظلم پر اتر آئے ہیں
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ گریٹر تھل کینال فیزIکی بحالی اور فیزII کی تعمیرکے معاہدے پر دستخط نہ ہوئے تو معاہدہ ازخود ختم ہوجائے گا
گریٹر تھل کینال پراجیکٹ ایکنک سے منظور ہوا، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سیمعاہدے پر دستخط کی حتمی تاریخ 13دسمبر ہے، وفاق سے پیشرفت نہ ہونا افسوسناک ہے
فیز II بننے سے مجموعی طورپر6 لاکھ ایکڑ اراضی کیلئے مزید پانی میسر ہوگا، کینال میں صرف پنجاب کا شیئر ہوگا کسی اور کا نہیں، ورنہ پانی سمندر میں چلا جاتا ہے
واٹر اکارڈ 1991 کے تحت بلوچستان کیلئے کچھی کینال، سندھ میں رینی کینال بن گئی، خیبر پختونخوا کیلئے چشمہ رائیٹ بینک بھی منظور، گریٹر تھل کیوں نہیں؟
گریٹرتھل کینال کامنصوبہ 2007سے سردخانے میں تھا، پی ٹی آئی حکومت نے بحال کرایا، ایکنک میں فلڈ بحالی کیلئے پنجاب کے سوا سب صوبوں کے منصوبے ہیں
پنجاب کا ایک بھی پراجیکٹ نہیں، یہاں تک کہ پنجاب کو وفاق کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے ایک پائی تک نہیں دی گئی: وزیراعلیٰ پنجاب کا گریٹر تھل کینال پر بیان
لاہور 9دسمبر: وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہاہے کہ شہباز شریف پنجاب دشمنی میں حدیں عبور کرچکے ہیں۔ شہباز شریف اپنے اتحادیوں کی خاطر پنجاب کے کاشتکار اور کسانوں کے ساتھ ظلم پر اتر آئے ہیں۔ گریٹر تھل کینال کے بارے میں اہم بیان میں وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ گریٹر تھل کینال معاہدے پر 13دسمبر تک دستخط نہ ہوئے تو معاہدہ ازخود ختم ہوجائے گا۔ گریٹر تھل کینال پراجیکٹ ایکنک سے منظور کرایا گیا اور اے ڈی بی معاہدے پر دستخط کی حتمی تاریخ 13دسمبر 2022ہے، ابھی تک وفاق کی طرف سے پیشرفت نہ ہونا افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایکنک کے اجلاس میں پنجاب نے سندھ کے اعتراضات اعدادوشمار کے ساتھ دور کئے۔ گریٹرتھل کینال فیز I کی تعمیر ومرمت اور بحالی بھی کی جانی تھی۔ گریٹر تھل کینال کا فیز II بننے سے مجموعی طورپر6 لاکھ ایکڑ اراضی کی کاشت کیلئے مزید پانی میسر ہوگا۔ گریٹر تھل کینال میں صرف پنجاب کے حصے کا پانی ہوگا کسی اور صوبے کا نہیں، بصورت دیگر یہ پانی سمندر میں چلا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ چوھری پرویزالٰہی نے کہاکہ 1991واٹر اکارڈ کے تحت گریٹر تھل کینال کے نام کے ساتھ پانی مختص کیا گیا ہے۔ 1991 کے آبی معاہدے کے تحت بلوچستان کیلئے کچھی کینال اور سندھ کیلئے رینی کینال کا منصوبہ بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا کیلئے چشمہ رائیٹ بینک کینال بھی منظور ہوچکا ہے۔ پنجاب دشمنی میں گریٹر تھل کینال کی تکمیل میں رکاوٹیں حائل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایاکہ2007سے گریٹرتھل کینال کامنصوبہ سردخانے میں تھا، پی ٹی آئی حکومت نے بحال کرایا اور فنڈز کا انتظام کیا۔ گریٹر تھل کینال پراجیکٹ پر لون کیلئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے معاہدے پر دستخط ہونے باقی ہیں۔ 13دسمبر تک اگر گریٹر تھل کینال معاہدے پر دستخط نہ ہوئے تو ایشین ڈویلپمنٹ بینک لون ایگریمنٹ کی مدت ختم ہوجائے گی۔ ایکنک کے موجودہ اجلاس میں فلڈ بحالی کیلئے سب صوبوں کے منصوبے ہیں، پنجاب کا ایک بھی پراجیکٹ نہیں، یہاں تک کہ پنجاب کو وفاق کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے ایک پائی تک نہیں دی گئی۔

Check Also

Under nose of government terrorism is raising its head again, they are only worried about crushing opponents: Imran Khan

PDM and Shehbaz Sharif have nothing for providing relief to people, after incompetency, government also …